روہنگیا مہاجرکیمپوں کے قریب لینڈ سلائیڈنگ، 14 افراد ہلاک

By | 13/06/2018

بنگلہ دیش میں شدید بارشوں کے باعث روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے 14 افراد جاں بحق ہوگئے۔

امدادی تنظیموں نے وارننگ دی ہے کہ آنے والے مہینوں میں بنگلہ دیش میں ہونے والی بارشوں سے دنیا کی سب سے بڑی مہاجرین کی بستی میں انسانی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

بارشوں کے تازہ واقعات کے دوران اکثر ہلاکتیں پہاڑی علاقے میں مٹی کے تودے تلے دبنے سے ہوئیں۔

اے ایف پی کے مطابق ضلعی منتظم راشد کا کہنا تھا کہ نانیارچار کے علاقے میں ایک ہی خاندان کے چارافراد سمیت 11 جاں بحق ہوگئے جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔

پولیس کے مطابق ضلع کاکس بازار میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر کم ازکم 13 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

انتظامیہ اور امدادی تنظیموں کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ بارشوں کے باعث پہاڑی علاقے میں قائم مہاجر کیمپ میں موجود 2 لاکھ روہنگیا افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات پیش آسکتے ہیں۔

بارشوں کے پیش نظر 29 ہزار کے قریب افراد کو خطرناک علاقوں سے دیگر علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے مہاجرین کے ترجمان کیرولین گلیوک کا کہنا تھا کہ ‘لوگوں کی منتقلی جاری ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے جگہ ڈھونڈنا ایک مسئلہ ہے’۔

بنگلہ دیشی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بارش نے 300 کے قریب پناہ گاہوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

مون سون بارشوں کے دوران خطے میں 2 اعشارہ 5 میٹر بارشوں کی پیش کی گئی ہے جو ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں ہونے والی سالانہ بارش سے 3 گنا زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مہاجرین کے کیمپوں کے علاقے کاکس بازار اور چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے 170 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

دوسری جانب بارشوں کے بعد مہاجر کیمپوں میں بیماریاں پھیلانے کا بھی خدشہ ہے۔

مہاجر کیمپوں میں گزشتہ برس اگست میں میانمار کی ریاست رخائن میں ہوئے فسادات کے بعد نقل مکانی کرنے والے 7 لاکھ کے قریب افراد موجود ہیں۔

اقوام متحدہ نے میانمار کی فوج کی ان کارروائیوں کو نسلی قتل وغارت سے تعبیر کیا تھا۔

install suchtv android app on google app store